AsiaCalling

Home News South Korea جنوبی کوریا میں تعلیم یافتہ نوجوان زیادہ ملازمتیں کم

جنوبی کوریا میں تعلیم یافتہ نوجوان زیادہ ملازمتیں کم

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

Download 

جنوبی کوریا کے طالبعلم اس وقت بے چینی سے یونیورسٹی میں داخلے کے امتحانی نتائج کا اعلان کررہے ہیں۔ اس وقت جنوبی کوریا کے 80 فیصد نوجوان کالجوں میں زیرتعلیم ہیں، تاہم ان اعلیٰ تعلیم یافتہ طالبعلموں کے لئے ملازمتیں موجود نہیں، اسی لئے حکومت بچوں کو کالجوں سے دور رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں جکارتہ انڈونیشیاءکے ریڈیو kbr68h کی آج کی رپورٹ

 

Lee Gun-young ایک طالبعلم ہیں جو Jang نامی ہائی اسکول میں چہل قدمی کررہے ہیں۔انھوں نے یونیورسٹی میں داخلے کے لئے دوسری بار امتحان دیا ہے۔

"میں پراعتماد ہوں، اس امتحان پر میرے مستقبل کا انحصار ہے"۔

Lee جب اسکول کے دروازے سے باہر نکل رہے تھے توکے ساتھیوں کے ایک گروپ نے اس کے اچھے مستقبل کی دعا کی۔Leeاور دیگر متعدد نوجوانوں کو توقع ہے کہ وہ اس بار اپنے نتائج بہتر کرکے کسی اچھی یونیورسٹی میں داخلے کے اہل ہوجائیں گے۔ مگر زیادہ کورین خاندانوں کے لئے صرف چار تعلیمی ادارے ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ Bae Tae-il نے ابھی ابھی اپنے بیٹے کو امتحانی مرکز پر چھوڑا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ تعلیمی ادارے کا نام بہت اہمیت رکھتا ہے۔

"اگر آپ کسی معروف یونیورسٹی میں داخل ہوجاتے ہیں تو زندگی میں آپ کو متعدد مواقع ملتے ہیں۔ آپ کو دیگر افراد سے زیادہ احترام ملتا ہے، اس بات کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ کس جگہ جارہے ہیں"۔

مگر کچھ مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ کورین عوام کے اندر درست اسکول کے انتخاب کا جنون ملازمتوں کے معیار سے مختلف ہے۔ Jasper Kim ہاورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ کوریا کو اس وقت تعلیمی افراط زر کا سامنا ہے۔

"کوریا میں اس وقت متعدد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں، مگرباریک بینی سے جائزہ لیں تو ملازمتوں کی مارکیٹ میں ان کی طلب نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں ایل جی اور سام سنگ جیسی عالمی کمپنیاں کام کررہی ہیں، مگر انہیں سالانہ بنیادوں پر چند افراد کی ہی ضرورت ہوتی ہے، اور وہ صرف ایسے افراد کو ہی منتخب کرتے ہیں جو ان کے معیار

 

پر پورے اترتے ہوں۔ سوال یہ ہے کہ ان باقی نوجوانوں کا کیا ہوگا جو منتخب نہیں ہوپاتے"۔

انکا کہنا ہے کہ دوسرے درجے کا شہری بن جانے والے ان نوجوانوں کو ملازمتوں کے بہت کم مواقع ملتے ہیں، جبکہ شادیوں کے لئے اچھا ساتھی بھی نہیں مل پاتا۔ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق 2010ءمیں تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونیوالے پچاس فیصد سے بھی کم نوجوانوں کو کل وقتی کام مل پایا ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جنوبی کورین حکومت اس مسئلے کوتیکنیکی اسکولوں کو فروغ دیکر حل کرنیکی کوشش کررہی ہے۔اس سلسلے میں جنوبی کورین صدر نے گزشتہ برس Seoul میں Sudo Electric Technical High School کا افتتاح بھی کیا تھا۔


اس اسکول میں طالبعلموں کو سیکھایا جاتا ہے کہ لوہے کی سلاخوں کو کس طرح ویلڈ کیا جاتا ہے۔ Sudo Electric Technical High School کی طرح اکیس اسکول ملک بھر میں حکومتی سرپرستی کے تحت کام کرہے ہیں۔


یہاں سے ڈگری حاصل کرنیوالے تمام طالبعلموں کو ملازمت فراہم کی جاتی ہے، اس مقصد کیلئے اسکول نے Korea's electric power authority سے معاہدہ بھی کررکھا ہے۔ ان میں سے کئی طالبعلم جیسے سترہ سالہ Lee Se-kyul دوران تعلیم ہی سام سنگ کے انجنئیرنگ ڈیپارٹمنٹ نے ملازمت کی پیشکش کردی ہے۔

"اگر میں کسی عام اسکول یا یونیورسٹی میں جاتا تو مجھے ملازمت کی تلاش خصوصاً سام سنگ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔مجھے اس طرز کے اسکول میں جانے کے فیصلے پر کوئی افسوس نہیں"۔

ڈگری کے بغیر جنوبی کورین کمپنیوں میں ملازمت حاصل کرنے ایک الگ معاملہ ہے، اس کے مقابلے میں ایسے طالبعلموں کے لئے کورین معاشرے میں جگہ بنانا زیادہ مشکل ہے۔ Geum Donghoe، Sudo کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے استاد ہیں۔

"مجھے اپنے طالبعلموں اور ان نوجوانوں میں میں کوئی زیادہ فرق نظر نہیں آتا جو خاص ڈگریاں حاصل کرتے ہیں۔ جلد یا بدیر جب ہمارے طالبعلموں کی کارکردگی سامنے آئے گی تو لوگ تسلیم کریں گے کہ انہیں معروف اسکول یا یونیورسٹی میں جانے کی ضرورت نہیں"۔

مگر عام کالجوں میں نہ جانے کا فیصلہ ابھی بھی نوجوانوں کیلئے آسان نہیں۔Sudo میں زیرتعلیم Seo Hyun Joo کا

 

کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے آپشن کھلے رکھے ہیں۔

"میں ابھی نوجوان ہوں اور میرے پاس یہاں سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی مواقع موجود ہوں گے۔ میں کام شروع کرنے کے بعد دیکھوں گی کہ وہ مجھے کس حد تک پسند آتا ہے۔ اگر پسند نہ آیا تو میں یونیورسٹی کے امتحانات کیلئے پڑھنا شروع کردوں گی"۔

 

آخری تازہ کاری ( پیر, 21 نومبر 2011 12:15 )  

Add comment


Security code
Refresh