AsiaCalling

Home News Nepal نیپال میں ہسپتالوں میں زچگی کرانے پر خواتین کو معاوضہ دینے کا پروگرام

نیپال میں ہسپتالوں میں زچگی کرانے پر خواتین کو معاوضہ دینے کا پروگرام

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

Download 

نیپال میں زچگی کے دوران ہلاکتوں کی شرح جنوبی ایشیاءمیں سب سے زیادہ ہے،تاہم اب حکومت نے ایک نیا پروگرام شروع کیا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں جکارتہ انڈونیشیاءکے ریڈیو kbr68h کی آج کی رپورٹ

 

 

اس وقت Thaiba نامی گاﺅں میں صبح کے آٹھ بجے ہیں۔ مقامی طبی رضاکار Binita Mahat پانچ ماہ کی حاملہ خاتون ششما کو مقامی طبی مرکز جاکر معائنہ کرانے کے لئے قائل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

Binita Mahat(female)"ماضی میں جب میں خواتین کو طبی مرکز جانے کا کہتی تھی تو انکا جواب ہوتا تھا کہ ان کے پاس پیسے نہیں، پھر وہ کس طرح وہاں جائیں؟ مگر اب میں انہیں بتاتی ہوں کہ اس کیلئے اضافی رقم کی ضرورت نہیں،بلکہ انہیں حکومت کی جانب سے پیسے دیئے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اب سب خواتین گھر کی بجائے زچگی کے لئے طبی مرکز جانے کو ترجیح دیتی ہیں"۔

گزشتہ برس سے ششما جیسی حاملہ خواتین کو مستقل طبی معائنہ کرانے پر حکومت کی جانب سے ہر دفعہ چھ ڈالر دیئے جاتے ہیں، اس طرح ان کے آنے جانے کے اخراجات پورے ہوجاتے ہیں۔ اگر وہ ہسپتال یا طبی مرکز میں زچگی کرائیں تو انہیں سات سے بیس ڈالر دیئے جاتے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ایک خاندان کی اوسط آمدنی دو ڈالر روزانہ ہے یہ مراعات بہت حوصلہ افزا ہے۔

Dr. Suman Tamrakar کھٹمنڈو کے نواح میں واقع ایک نجی ہسپتال کے سنیئر ڈاکٹر ہیں۔

Suman Tamrakar(male)"حکومتی کوششوںسے اب زیادہ سے زیادہ حاملہ خواتین بچے کی ولادت ہسپتال میں کرانے کو ترجیح دینے لگی ہیں"۔

وہ مزید بتارہے ہیں۔

Suman Tamrakar(male)"ماضی میں بھی وہ ہسپتال آنا چاہتی تھیں مگر کم آمدنی کی وجہ سے ان کیلئے سفری اور طبی اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا تھا۔ مگر اب انہیں معلوم ہے کہ اگر وہ ہسپتال آئیں گی تو انہیں رقم بھی ملے گی جس سے کم از کم سفری اخراجات تو پورے ہوجائیں گے۔ ہم گزشتہ ڈیڑھ سال کے اعدادوشمار کا جائزہ لیں تو ہسپتال میں بچوں کی ولادت کی شرح پچاس سے ساٹھ فیصد تک بڑھی ہے"۔

تیس سالہ Phoolmaya Tamang اپنے نومولود بچے کو گود میں لیے بیٹھی ہوئی ہیں۔ یہ ان کا تیسرا بچہ ہے مگر یہ پہلی بار ہے کہ وہ ہسپتال میں داخل ہوئی ہیں۔

Phoolmaya Tamang(female)"یہ میری زندگی کا پہلا موقع ہے کہ میں زچگی کے لئے ہسپتال آئی ہوں، جسکی وجہ یہ ہے کہ حمل کے دوران مجھے چند مشکلات کا سامنا تھا۔ اگر مجھے یہاں نہ لایا جاتا تو میں مرجاتی"۔

وہ ضلع Sindhupalchowk سے یہاں آئی ہیں، یہ وہ علاقہ ہے جہاں دوران زچگی ہلاکتوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ان کے شوہر Dhanbadhur Tamang تیسرے بچے کی پیدائش پر بہت خوش ہیں۔

Dhanbadhur Tamang(male)"پہلے تو میں طبی رضاکار کی یہ بات ماننے کیلئے تیار نہیں تھا کہ اپنی بیوی کو کسی طبی مرکز پر دکھاﺅں۔ میں نے گھر جانے کی کوشش کی، مگر پھر میں قائل ہوگیا کہ اگر بچے کی ولادت گھر میں ہوئی تو میری بیوی کی زندگی خطرے میں پڑجائے گی۔ میرے خیال میں ہم نے اچھا فیصلہ کیا"۔

2006ءمیں نیپال کی صرف 18 فیصد خواتین بچے کی ولادت کیلئے ہسپتال جانا پسند کرتی تھیں، مگر رواں برس کے حکومتی سروے کے مطابق یہ شرح تیس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔


انیس سالہ گنگا ایک اچھوت ہندو خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ انکا خاندان بہت غریب ہے اور اب تک دوبار ان کا حمل گرچکا ہے، مگر حکومتی مراعات کے بعد اب کی بار انھوں نے ہسپتال میں ایک صحت مند بچے کو جنم دیا ہے۔

گنگا(female)"میرے گاﺅں کے قریب ایک طبی مرکز موجود تھا مگر وہاں کسی خطرے سے نمٹنے کی سہولت موجود نہیں تھی، مجھے بتایا گیا تھا کہ مجھے بچے کی پیدائش کے دوران پیچیدگیوں کا سامنا ہوگا، یہی وجہ تھی کہ جب میں یہاں آئی تو ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ میرا آپریشن ہوگا۔جس کے دوگھنٹے کے بعد میرے ہاںبیٹے کی پیدائش ہوئی"۔

آج وہ گھر واپس جارہی ہیں، تاہم Dr. Suman Tamrakar کا کہنا ہے کہ دوران زچگی ہلاکتوں پر قابو پان�� کیلئے ابھی کافی کام کرنا باقی ہے۔

Dr. Suman Tamrakar(male)"اگر آپ دیہی علاقوں میں جائیں تو وہاں صورتحال تباہ کن ہے۔ نیپال میں صرف بیس سے پچیس فیصد خواتین بچے کی ولادت کیلئے ہسپتالوں کا رخ کرتی ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ اس

سلسلے میں کافی کام کرنا باقی ہے"۔

آخری تازہ کاری ( پیر, 21 نومبر 2011 11:25 )  

Add comment


Security code
Refresh