
دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی سے حکومتیں پریشان ہیں، تاہم ہانگ کانگ کی حکومت زیادہ بچوں کی خواہشمند ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں جکارتہ انڈونیشیاءکے ریڈیو kbr68h کی آج کی رپورٹ
21 سالہ طالبہ Aman Wong کبھی شادی نہ کرنے کے عزم کا اظہار کررہی ہیں۔
"مجھے لگتا ہے کہ میں خودغرض ہوں، اس لئے مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے شریک حیات کی تلاش کربھی لوں اور وہ میرے لئے سب کچھ کرے بھی تو میں اس کے لئے کچھ بھی نہیں کرسکوں گی۔ مجھے یہ سوچ بہت بری لگتی ہے۔ دوسری چیز یہ یہاں کے لڑکے زیادہ باشعور نہیں، ہم ان لڑکوں کو بچگانہ مزاج کا حامل قرار دیتے ہیں، کیونکہ بڑے ہوکر بھی وہ بچوں جیسے روئیے کا اظہار کرتے ہیں۔ بہت سے لڑکے گھر واپس جاکر کمپیوٹر پر گیمز کھیلتے ہیں یا کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں۔ مجھے یہ سب پسند نہیں، میں نہیں چاہتی کہ مجھے شوہر کی جگہ کوئی بچہ ملے"۔
رواں برس ہونیوالی مردم شماری میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہانگ کانگ میں غیرشادی شدہ خواتین کی تعداد گزشتہ دو دہائیوں کے مقابلے مین 60 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔
مردم شماری کے بعد ہانگ کانگ حکومت نے زیادہ بچوں کی پیدائش کیلئے خواتین کو رقم دینے کی پیشکش کی ہے۔ والدین کو پیشکش کی گئی ہے کہ وہ اپنے انکم ٹیکس کی مد میں 24 ہزار امریکی ڈالر تک کی چھوٹ حاصل کرسکتے ہیں، تاہم Aman کا کہنا ہے کہ وہ اپنا ذہن تبدیل کرنے کیلئے تیار نہیں۔
"حکومتی پالیسی اچھی ہے، جس سے لوگوں کی مدد ہوگی اور وہ شادیاں کرنے کیلئے تیار ہوں گے۔ مگر سوال یہ ہے کہ لوگ شادیاں کرنے کیلئے کیوں تیار نہیں، حکومت کا سوچنا ہے کہ عوام کے خیال میں یہ بہت مہنگا کام ہے اور اس لئے وہ بچوں کی پیدائش کے تیار نہیں ہوتے۔ میرے خیال میں یہ معاشی وجوہات کی بناءپر نہیں، بلکہ مجھے لگتا ہے کہ ہانگ کانگ کے شہری بہت زیادہ کما رہے ہیں اور خواتین شادیاں کرکے کسی مرد پر منحصر ہونے کیلئے تیار نہیں۔اگر حکومت مراعات دے کر کامیابی کیلئے پرامید ہے تو مجھے نہیں لگتا ہے کہ یہ مراعات زیادہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرپائیں گی"۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کی سہلیاں حکومتی مراعات سے متاثر ہوکر شادیاں کرچکی ہیں مگر وہ بچوں کی پیدائش کیلئے تیار نہیں۔
"میں اپنی چند سہلیوں کے بارے میں جانتی ہوں جو حکومتی پالیسی سے متاثر ہوکر شادیاں کرچکی ہیں۔ ان کی آمدنی زیادہ نہیں تھی اس لئے انھوں نے شادیاں کرلیں، اور اپنا نام حکومتی پالیسی میں رجسٹر کرادیا۔مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ نہیں رہ رہیں، بلکہ بس وہ قانونی طور پر شادی شدت ہیں تاکہ حکومتی رہائشی اسکیم سے مستفید ہوسکیں"۔
مقامی کمپنیاں بھی بچوں کی پیدائش کیلئے شادی شدہ جوڑوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہیں۔
DBS Hong Kong Bank رواں سال کے اوائل میں ایک پالیسی متعارف کرائی تھی جسے 5@5 کا نام دیا گیا تھا، جس کے تحت بینک کے ملازمین کو رات نوبجے کی بجائے شام پانچ بجے ہی گھر واپس جانے کی اجازت دی گئی تھی۔American Express نے اسکولوں کے امتحانات کے دوران اپنے ملازمین کیلئے لچکدار نظام الاوقات متعارف کرائے، تاکہ والدین اپنے بچوں کو امتحانات کی تیاری میں مدد فراہم کرسکیں۔ ایک بڑی اکاﺅنٹنگ کمپنی KPMG نے ایسے ملازمین کو اضافی چالیس روز کی سالانہ تعطیلات دینے کا اعلان کیا جن کے ایک یا دو بچے ہیں۔Bonnie Lam جو ایک ٹیکنالوجی کمپنی میں کام کرتی ہیں کا کہنا ہے کہ ایسی مراعات سے ایک دن لوگوں کے اندر خاندان تشکیل دینے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
"میرے خیال میں یہ ملازمین کے مفاد میں ہے۔ یقیناً جب میرا خاندان ہوگا تو میں اس پالیسی کو خوش آمدید کہوں گی، تاہم اگر میرا خاندان نہ بھی ہو تو بھی اس پالیسی سے خوش ہوں گی، کیونکہ یہ ملازمین کیلئے اچھی ہے۔ اس سے ان کے اندر کمپنی سے وابستہ رہنے کا جذبہ بڑھے گا"۔
تاہم 33 سالہ Bonnie Lam اب تک مناسب شریک حیات نہیں ڈھونڈ نہیں سکی ہیں۔
"شاید بہت زیادہ مصروف رہنے کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا، میں شریک حیات کی تلاش میں ضرور ہوں مگر ایسا نہ بھی ہوسکا تو بھی میں مطمئن ہوں، میں اپنے دل کی ہدایات پر چل رہی ہوں اور کسی کا انتظار کررہی ہوں۔ میرے خیال میں میرا سماجی دائرہ بہت چھوٹا ہے اور میں اپنے کام میں بہت مصروف ہونے کے ساتھ ساتھ باہر جانے سے گریز کرتی ہوں۔ میرے خیال میں یہ بنیادی وجہ ہے"۔
Dr. Lau Yuk-king ہانگ کانگ اور چین میں خاندان دوست پالیسیوں پر تحقیق کررہی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ کی خواتین اپنے شوہر سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرلیتی ہیں۔
"میرے خیال میں یہ روایتی نظریہ ہے، یہاں تک کہ ہماری یونیورسٹیوں کی طالبات بھی ایسا ساتھی چاہتی ہیں جو ان سے زیادہ تعلیم یافتہ یا کم از کم برابر کا تو ہو۔ اگر ان لڑکیوں کے پاس بہت اچھی ملازمت بھی ہو تو بھی وہ اپنے سے بہتر ملازمت اور آمدنی رکھنے والے شخص کی تلاش کرتی ہیں۔ تو یہ ہانگ کانگ کی خواتین کیلئے بہت مشکل کام ہے۔ ایک رجحان یہ بھی ہے کہ اگر انہیں اچھا ساتھی نہ مل سکے تو وہ تنہا رہنے کو ہی ترجیح دیتی ہیں"۔
جو خواتین شادیاں کرلیتی ہیں وہ بھی ایک یا دو سے زائد بچوں کی خواہشمند نہیں ہوتیں، Dr. Lau Yuk-king کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ہانگ کانگ کے تعلیمی نظام میں مسابقت بہت زیادہ ہونا ہے۔
"ہانگ کانگ لوگوں کے رہنے کیلئے اچھا مقام نہیں، یہ آمدنی کے لئے تو اچھی جگہ ہے مگر یہاں کا معیارزندگی بہتر نہیں اور یہاں مسابقت کا ماحول بہت زیادہ ہے۔ تو اگر ہمارے بچے ہوجائیں تو ہم پوری زندگی ان کے مستقبل کے حوالے سے فکرمند رہتے ہیں، کیونکہ یہ امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں کہ وہ زندگی کی دوڑ میں شکست کھا جائے، خصوصاً اگر ہم ان کی تعلیم اور زبان وغیرہ پر زیادہ توجہ نہ دے سکے تو اس کے امکان زیادہ ہوجاتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کی کامیابی کیلئے بہت کچھ کرتے ہیں،اس بوجھ کے ہم پر معاشی اور نفسیاتی پہلو مرتب ہوتے ہیں"۔
ان کا کہنا ہے کہ زیادہ بچوں کیلئے خواتین پر دباﺅ ڈالنے کی بجائے حکومت تارکین وطن کی آمد کو خوش آمدید کہے۔
"ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہانگ کانگ آنے کی دعوت دیں، غیرملکیوں کو خوش آمدید کہنا اس مسئلے کا ایک حل ہے تاہم اس کے لئے لوگوں کو منتخب کرنے کا عمل بہتر بنانا ہوگا۔ حکومت کو اس بارے میں سوچنا چاہئے، میرے خیال میں جو لوگ یہاں سات برس گزارے انہیں ہانگ کانگ کی شہریت دیدی جانی چاہئے، کیونکہ ہر اس شخص کا حق ہوگا۔ یہ غیرمنصفانہ ہوگا کہ ہم انہیں غیرملکی سمجھ کر ان کے خلاف اقدامات کریں"۔










