
Aung San Suu Kyi برما کے انتخابی قوانین میں ترامیم کے بعد پارلیمانی الیکشن میں حصہ لینے کیلئے اہل قرار پائی ہیں۔Aung San Suu Kyi کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی یا این ایل ڈی نے سخت قوانین کے باعث گزشتہ سال ہونیوالے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا تاہم اب اس کے موقف میں تبدیلی آئی ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں جکارتہ انڈونیشیاءکے ریڈیو kbr68h کی آج کی رپورٹ
یہ مانا جارہا ہے کہ برمی انتخابی قوانین میں تبدیلی Aung San Suu Kyi اور فوجی حکام کے درمیان خفیہ ملاقاتوں کا نتیجہ ہے۔ U Win Tin، این ایل ڈی سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت رسمی سیاسی عمل کا حصہ بننا پسند کرے گی۔
"میرے خیال میں نیا قانون زیادہ لچکدار اور اطمینان بخش ہے۔ ان ترامیم سے جیلوں میں قید رہنے والے سیاستدانوں کیلئے انتخابات میں کھڑا ہونا ممکن ہوگیا ہے۔میرے خیال میں نیا قانون شفاف ہے اوراس سے ہماری جماعت ایک بار پھر سیاسی پارٹی کے طور پر رجسٹر ہوسکے گی"۔
ایک سال قبل جب برمی صدر Thein Sein نے سیاسی اصلاحات اور شفاف حکومت کا وعدہ کیا تھا تو زیادہ تر اسے محض لفاظی قرار دے رہے تھے، مگر ایک سال کے اندر حزب اختلاف کی رہنماءAung San Suu Kyi سمیت تین سو سے زائد سیاسی قیدیوں کو رہا کیا گیا، اور اب انتخابی قوانین بھی زیادہ جمہوری ہوگئے ہیں۔ مگر آئین اب بھی قانون ساز اسمبلی کی 25 فیصد نشستیں فوج کو دینے کی ضمانت دے رہا ہے، جبکہ فوج منتخب پارلیمنٹ کے کسی بھی فیصلے کو ویٹو کرنے کی طاقت بھی رکھتی ہے۔کچھ سیاسی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملکی جیلوں میں دو ہزار سے زائد سیاسی قیدیوں کی تاحال موجودگی کو دیکھتے ہوئے این ایل ڈی کو فوجی حکومت کے نظام میں شامل نہیں ہونا چاہئے، تاہم ممتاز سیاسی کالم نگار Maung Wun Tha جو چھ سال جیل میں گزار چکے ہیں، ایک نیا باب کھولنے کے خواہشمند ہیں۔
"دونوں اطراف کیلئے اہم چیز یہ ہے کہ وہ سیاسی تعطل کو مناسب طریقے سے ختم کرےں۔ اب تک میں نے دیکھا ہے کہ پارٹی رجسٹریشن کے قوانین میں نرمی آئی ہے اور این ایل ڈی انتخابی عمل میں شامل ہونے پر غور کررہی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آئندہ انتخابات آزاد اور شفاف ہوں، اور این ایل ڈی رجسٹر ہو کر ان میں حصہ لے"۔
این ایل ڈی کا اجلاس 18 نومبر کو ہورہا ہے جس میں پارٹی کی رجسٹریشن کرانے یا نہ کرانے کے حوالے سے تاریخی رائے شماری ہوگی۔ اگر اکثریت نے آئندہ ماہ ہونیوالے ضمنی انتخابات میں شرکت کی تائید کی تو این ایل ڈی کے چار درجن امیدوار ان میں حصہ لیں گے۔ 43 سالہ کاشتکار Kyaw Naing Oo این ایل ڈی کو ووٹ دینا چاہتے ہیں۔
"زیادہ تر ووٹرز جن سے میری بات ہوئی وہ Aung San Suu Kyi کے حامی ہیں۔ ہمیں ان پر اعتماد ہے اور ہم ان کے ہر اقدام کی حمایت کریں گے"۔
برمی ووٹرز کو انتخابی عمل پر زیادہ اعتبار نہیں۔ 1990ءکے انتخابات میں این ایل ڈی نے کامیابی حاصل کی تھی، تاہم فوج نے طاقت کے زور پر ان نتائج کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔اس وقت این ایل ڈی کے بیشتر امیدواروں کو جیل یا ملک سے فرار ہونا پڑا۔اسی طرح گزشتہ سال ہونیوالے انتخابات میں فوج کی حمایت یافتہ جماعت کو کامیابی دلائی گئی۔ U Aung Phay رنگون سے تعلق رکھنے والے ایک استاد ہیں جو اکثر فوجی حکومت کے خلاف احتجاجاً بھوک ہڑتال کرتے رہتے ہیں، اس کے باعث وہ متعدد بار جیل بھی جاچکے ہیں۔ اب وہ برما میں جلد انتخابات کرانے کیلئے احتجاج کررہے ہیں۔
"میں نے ایک سفید قمیض پہن رکھی ہے جس پر لکھا ہے کہ انتخابی عمل عوامی خواہشات کا عکاس ہونا چاہئے۔ اس طرح میں اپنے مطالبے کے حق میں پرامن احتجاج کرسکتا ہوں۔ میں نے یہ فقرہ دوسو پمفلٹس پر لکھ کر انہیں چائے خانوں مےں تقسیم کیا۔ میں نے لوگوں کی آراءسے جانا ہے کہ وہ گزشتہ سال ہونیوالے انتخابی عمل سے مطمئن نہیں اور وہ آزاد و شفاف انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں"۔










